آئی ایم ایف نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سے روک دیا، تہلکہ خیز دعویٰ

اسلام آباد ( نیوزڈیسک ) سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کا معاملہ آئی ایم ایف کی منظوری سے منسلک ہے۔مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف کا مطالبہ ہے کہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہیں نہ بڑھائی جائیں۔

وزارت خزانہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھانے کی تجاویز آئی ایم ایف کے سامنے رکھے گی گی۔ذرائع نے بتایا کہ وزارت خزانہ سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں اضافے کی بجائے ایڈ ہاک الاؤنس دینا چاہتی ہے۔ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق ایڈ ہاک الاؤنس دینے کے لیے بھی آئی ایم ایف کی رضامندی ضروری ہے۔

آئی ایم ایف کی منظور کردہ تجاویز ہی بجٹ کا حصہ ہوں گی۔ قومی اسمبلی کااجلاس (آج)پیر سے شروع ہوگا جس میں دس جون کو آئندہ مالی سال 2022-23کا بجٹ پیش کیا جائیگا ۔صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے قومی اسمبلی کا اجلاس (آج)6 جون پیر طلب کر رکھا ہے جس میں ، آئندہ مالی سال 23-2022 کا سالانہ بجٹ قومی اسمبلی کے سیشن میں 10 جون بروز جمعہ کو پیش کیا جائے گا اجلاس میں بجٹ پر بحث ہوگی اور رواں سیشن میں آئندہ مالی سال 2022-23 کے بجٹ کی منظوری دی جائے گی۔

دوسری جانب آئندہ مالی سال کیلئے ترقیاتی بجٹ 2184 ارب روپے رکھنے کی تجویز دے دی گئی ۔وزیر منصوبہ بندی کی صدارت میں سالانہ پلان کوارڈینیشن کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں آئندہ مالی سال کے لیئے ترقیاتی بجٹ 2184 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ۔

ذرائع کے مطابق صوبوں کیلئے 1384 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ تجویز کیے گئے ہیں، آئندہ مالی سال کیلئے وفاق کا ترقیاتی بجٹ 800 ارب روپے تک تجویز دی گئی ۔ ذرائع کے مطابق اراکین قومی اسمبلی کی پبلک اسکیم کے لیے 91 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ،اراکین قومی اسمبلی کو پی ایس ڈی پی کے تحت فنڈز دیے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں